’’ اگلی صف میں بیٹھے نوجوان نے کندھے سے چادر اْتار کر مجھے اوڑھادی اور دوسرے ہی لمحے ۔۔.‘‘اللہ کے ایک محبوب بندے کا وہ واقعہ جس نے انہیں عین نماز کے وقت حیرت میں ڈال دیا تھا – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > تاریخی وا قعات > ’’ اگلی صف میں بیٹھے نوجوان نے کندھے سے چادر اْتار کر مجھے اوڑھادی اور دوسرے ہی لمحے ۔۔.‘‘اللہ کے ایک محبوب بندے کا وہ واقعہ جس نے انہیں عین نماز کے وقت حیرت میں ڈال دیا تھا

’’ اگلی صف میں بیٹھے نوجوان نے کندھے سے چادر اْتار کر مجھے اوڑھادی اور دوسرے ہی لمحے ۔۔.‘‘اللہ کے ایک محبوب بندے کا وہ واقعہ جس نے انہیں عین نماز کے وقت حیرت میں ڈال دیا تھا

’’ اگلی صف میں بیٹھے نوجوان نے کندھے سے چادر اْتار کر مجھے اوڑھادی اور دوسرے ہی لمحے ۔۔.‘‘اللہ کے ایک محبوب بندے کا وہ واقعہ جس نے انہیں عین نماز کے وقت حیرت میں ڈال دیا تھا۔۔اللہ کی اطاعت کرنے والوں کے سامنے دنیا کی ہر شے جھک جاتی
اور انکی اطاعت کرتی ہے۔ان پر جہانوں کے اسرار کھل جاتے ہیں،حضرت سہل بن عبداللہ تستری اس حوالہ سے ایسا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ جسے پڑھ کر اہل اللہ کے سینے خوشی سے منور ہوجاتے ہیں ۔عارف باللہ حضرت سہل بن عبداللہؒ تستری اپنے زمانہ کے مشہور عالم بزرگ تھے ،آپ کا ذکرحضرت علی عثمان الہجویری نے کشف المحجوب میں بھی کیا ہے۔ حضرت سہل بن عبداللہؒ تستری فرماتے ہیں’’ ابتدائی زمانے میں ایک دن میں وضو کر کے جامع مسجد کو گیا۔ میں نے دیکھا تو جامع مسجد بھر گئی تھی اور امام منبر پر خطبہ کے واسطے چڑھ رہے تھے، میں بے ادبی کر کے لوگوں پر پھیلانگتا ہوا پہلی صف میں جا بیٹھا ، میری سیدھی جانب ایک نوجوان خوبصورت خوشبو لگائے، اْونی چادر اوڑھے ہوئے بیٹھا ہوا تھا مجھے دیکھ کر کہنے لگا’’ تیرا کیا حال ہے؟ اے سہل!‘‘میں نے کہا’’ اچھا ہوں ‘‘ لیکن متفکرر ہا کہ اس نے مجھے پہنچانا اور میں اْسے نہیں جانتا تھا۔ ناگاہ مجھے پیشاب کی سوزش ہونے لگی اور مجھے یہ اندیشہ ہونے لگا کہ اگر پیشاب کے واسطے جاتا ہوں تو لوگوں پر چھلانگنا ہوگا اور اگر نہ جاوں تو نماز جاتی ہے۔میں یہ سوچ رہا تھا کہ اْس نوجوان نے پوچھا ’’ تمہیں پیشاب کی تکلیف ہو رہی ہے؟

‘‘میں نے کہا’’ ہاں!‘‘اْس شخص نے اپنے کندھے پر سے چادر اْتار دی اور مجھے اوڑھا کر کہنے لگا’’جلدی سے قضائے حاجت کر کے آکر نماز میں شامل ہو جا‘‘۔ میری آنکھ بند ہو گئی۔ جب میں نے آنکھ کھولی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا دروازہ ہے اور ایک شخص دروازہ پر کھڑا کہہ رہا ہے کہ اندر جاو۔ جب اندر گیا تو ایک محل نظر آیا جو نہایت عالی شان تھا اور ایک جانب ایک درخت تھا اور اس کے پاس ایک لوٹے میں پانی بھرا رکھا تھا جو شہد سے زیادہ میٹھا تھا، وہیں پیشاب کرنے کی جگہ بھی تھی اور مسواک اور رومال بھی تھا، میں نے کپڑے اْتارے اور پیشاب کیا۔غسل کیا اور وضو کر رہا تھا کہ اسی نوجوان کی آواز آئی ’’ اگر تم اپنا کام کر چکے ہو تو کہہ دو ‘‘ میں نے ہاں کہا تواْس نے میرے اوپر سے چادر اْتاری تو وہیں پر تھا جہاں پر بیٹھا تھا اور کسی کو میرے اس واقعہ کاعلم نہ ہوا۔ اور میں متفکر رہا کہ کیا واقعہ ہوا؟ کبھی اپنے نفس کی تصدیق کرتا تھا اور کبھی تکذیب کرتا تھا۔ اتنے میں جماعت کھڑی ہوئی اور میں نے بھی لوگوں کے ہمراہ نماز جمعہ ادا کی۔ مگر مجھے اس جوان ہی کا خیال رہا۔ میں اسے نہیں پہنچانتا تھا۔ جب نماز سے فراغت ہو چکی تو میں اْس کے پیچھے ہو لیا۔ وہ ایک مکان میں داخل ہوا اور میری طرف دیکھ کر کہنے لگا’’ اسےسہل! گویا تجھے اپنے دیکھے ہوئے کا یقین نہ ہوا‘‘میں نے کہا’’ بالکل نہ ہوا‘‘فرمایا’’اچھا تو آاور پھرداخل ہوجا‘‘ میں نے دیکھا تو بعینہ وہی دروازہ تھا۔ جب اندر پہنچا تو وہی مکان اور درخت اور لوٹا، گیلا رومال سب کا سب موجود تھا۔ میں نے کہا ’’ یا اللہ‘‘ یہ سن کر وہ بولا’’ اے سہل جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے، ہر شے اْس کی اطاعت کرتی ہے۔ اے سہل ! اْسے ڈھونڈو تم پا لو گے‘‘ یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے۔ اس نے میرے آنسو اپنے ہاتھ سے پونچھے۔ پھر جب میں نے آنکھیں کھولیں تو نہ وہ جوان تھے نہ محل۔تھوڑی دیر تک متحیررہا ان کی صحبت فوت ہو جانے پر ‘ پھر اپنی عبادت میں مشغول ہو گیا۔


Top