کیا سکھ مت بھی ہندو مت کا حصہ ہے ؟؟؟بابا گرونانک کے حوالے سے علامہ اقبال ؒ کیسے نظریات رکھتے تھے ؟؟؟ پڑھیے سکھ عقائد پرروشنی ڈالتی جامع رپورٹ – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > تاریخی وا قعات > کیا سکھ مت بھی ہندو مت کا حصہ ہے ؟؟؟بابا گرونانک کے حوالے سے علامہ اقبال ؒ کیسے نظریات رکھتے تھے ؟؟؟ پڑھیے سکھ عقائد پرروشنی ڈالتی جامع رپورٹ

کیا سکھ مت بھی ہندو مت کا حصہ ہے ؟؟؟بابا گرونانک کے حوالے سے علامہ اقبال ؒ کیسے نظریات رکھتے تھے ؟؟؟ پڑھیے سکھ عقائد پرروشنی ڈالتی جامع رپورٹ

لاہور (انتخاب /چوہدری ذیشان عمر)بانگ درا میں علامہ اقبالؒ کی ایک نظم ہے نانک ۔ علامہ اقبالؒ گرو بابا نانک کے بارے میں اس نظم میں فرماتے ہیں: قوم نے پیغامِ گوتم کی ذرا پروا نہ کی قدر پہچانی نہ اپنے گوہر یکدانہ کی آہ! بدقسمت رہے آواز حق سے بے خبر غافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے
شجر آشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھا ہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھا شمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھی بارش رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھی آہ! شودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہے دردِ انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے برہَمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میں شمعِ گوتم جل رہی ہے محفلِ اغیار میں بت کدہ پھر بعد مْدّت کے مگر روشن ہوا نورِ ابراہیم سے آزر کا گھر روشن ہوا پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے ۔اسی طرح علامہ اقبالؒ بانگ درا کی ایک نظم میں بابا نانک کے بارے میں فرماتے ہیں نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا! سکھوں کی مذہبی کتاب گرنتھ صاحت کے ذکر کے ساتھ گرو بابا نانک کا ذکر لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کی بابا نانک کے بارے میں نظم کا حوالہ اس لیے ضروری بنتا ہے کہ اقبالؒ کے علاوہ برصغیر کے تمام مفکر اور دانشور بابا نانک جی کو موحد سمجھتے ہیں۔ ان کی تعلیمات کا جوہر وحدانیت میں ہے۔ جبکہ ہندو فلسفی، سیاست دان اور عالم ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہے ہیں
کہ سکھ پنتھ کو ہندو مت کا ہی ایک حصہ ثابت کیا جائے اور اس طرح جس حد تک ممکن ہو بحیثیت قوم سکھوں کا استحصال کیا جائے۔ جس کا واضح طور پر سکھ قوم کو برصغیر کی تقسیم کے بعد احساس ہو چکا ہے۔ بابا نانک، ان کی شخصیت ، گرنتھ صاحب اور ان کی تعلیمات کا مطالعہ دلچسپ بھی ہے اور بصیرت افروز بھی۔ اسلام اور اسلامی تعلیمات کے اثرات بابا نانک اور گرنتھ صاحب اور اس کی تعلیمات سے صاف عیاں ہیں۔ گرنتھ صاحب دنیا کی مذہبی کتابوں میں ایک منفرد حیثیت کی حامل ہے۔ دنیا کی کوئی مذہبی کتاب ایک خاص پہلو کے اعتبار سے اس کتاب کی مثال نہیں دے سکتی۔دنیا کی ہر مذہبی کتاب کا ایک خاص مزاج ہے ۔ ہر کتاب اپنے پیغمبر اور اپنے مذہب کا خالص مظہر بنتی ہے۔ جبکہ سکھوں کی مذہبی کتاب گرنتھ صاحب میں یہ بات نہیں ہے۔ سکھوں کے پانچویں گرو، گروارجن نے گرنتھ صاحب کی تدوین و ترتیب کا عظیم فریضہ ادا کیا۔ اپنے سے پہلے چار گروؤں کے مرتبہ کاموں کا بھی گروارجن نے جائزہ لیا۔ گروبابا نانک جہاں جہاں گئے تھے وہاں گروارجن نے اپنے نمائندے بھیجے تاکہ ان کے کلام اور فرمودات کو جمع کیا جائے۔ حتیٰ کہ ایک نمائندہ سری لنکا بھی گیا جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ گرونانک نے جو چار اہم سفر کیے تھے، ان میں سے ایک کے درمیان وہ سری لنکا بھی گئے۔
گرو ارجن نے اس کام میں ذاتی دلچسپی بھی لی اور خود تیسرے گرو باباموہن کے پاس گئے اور ان کو یہ ترغیب دینے میں کامیاب ہوگئے کہ ان کے پاس میں گروؤں کی جو تحریریں ہیں وہ انہیں سونپ دی جائیں۔ لیکن گرو ارجن نے گرنتھ صاحب کی ترتیب و تدوین اور یک جائی کے سلسلے میں ایک بے نظیر کام بھی کیا۔ گرنتھ صاحب میں ہندوبھگتوں اور مسلمان صوفیائے کرام کا کلام بھی شامل کر لیا۔ گرنتھ کا یہ نسخہ جو گرو ارجن نے تیار کیا اور جس کی ترتیب میں بھائی گرداس نے نیابت کی، اسے آدھی گرنتھ کا نام دیا گیاجسے 1604ء میں امرتسر کے ہری مندر میں رکھا گیا اور جو پہلا گرنتھی مقرر ہوا اس کا نام بھائی بڈھا تھا۔بعد میں گرو گوبند سنگھ نے اس کا ایک نیا ایڈیشن تیار کروایا، جس میں نویں گرو تیغ بہادر کے شبد بھی شامل کر لیے گئے۔ لیکن گرو گوبند سنگھ نے اس میں اپنے اشلوک شامل نہ کیے۔ (تاہم ان کا ایک اشلوک کسی طرح گرنتھ صاحب میں باقی رہ گیا۔) گرنتھ صاحب کے پورے نسخے کی املا خود گروگوبند سنگھ نے کروائی۔ گرنتھ صاحب میں گروؤں کے شبدوں اور اشلوکوں کے علاوہ 36 ایسے افراد کا کلام بھی شامل ہے جو سکھ نہ تھے۔ سکھ مذہب سے کوئی تعلق نہ رکھتے تھے۔ اس اعتبار سے گرنتھ صاحب دنیا کی عجیب اور بے مثل مذہبی کتاب ہے کہ اس میں ان لوگوں کا کلام بھی شامل ہے جو اس مذہب سے تعلق نہ رکھتے تھے، جن کے اپنے عقائد اور مذاہب تھے۔


Top